ہوم /نماز کا طریقہ

نماز کا طریقہ


 

آپ ﷺ نے فرمایا " ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو"[ اس حدیث کو امام بخاري نے روایت کیا ہے]

حضرت عائشہ رضي الله عنها سے مروی ہے فرماتی ہیں " آپ ﷺ نماز کو تکبیر اور سورۃ فاتحہ کے ساتھ شروع فرماتے تھے اور رکوع کے وقت نہ سرکو بلند رکھتے تھے اور نہ ہی جھکاتے تھے بلکہ درمیان میں رکھتے تھے۔ اور جب رکوع سے اپنے سر کو اٹھاتے تھے تو سیدھے کھڑے ہونے تک سجدے میں نہ جاتے تھے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے اٹھنے سے پہلے دوسرے سجدے میں نہ جاتے تھے۔ اور ہر دو رکعتوں میں التحیات کہتے اور اپنے بائیں پاؤں کو بچھاتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے اور شیطان کی طرح سیرین پر بیٹھنے سے روکتے تھے اور آدمی کو اپنی کہنیاں درندے کی طرح بچھانے سے منع فرماتے تھےاور نماز کو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔"[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

قبلے کی طرف منہ کرنا اور احرام کی تکبیر کہنا۔

جو نماز کا ارادہ کرے وہ قبلے کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو اس بات کا احساس کرتے ہوئے کہ وہ اللہ کے سامنے کھڑا ہے۔ خشوع و خضوع سے نماز پڑھے پھر اپنے دل میں نماز کی نیت کرے کیونکہ نیّت کی جگہ دل ہے اور اسکو الفاظ کے ساتھ ادا کرنا جائز نہیں ہےکیونکہ یہ بدعت ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا " اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے اور ہر شخص کےلیے وہ ہے جسکی اس نے نیّت کی"[ یہ حدیث متفق عليه ہے]

پھر اپنے ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک بلند کرے اور کہے اللہ اکبر پھر دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینے کے نیچے رکھے اور دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں ہاتھ کو پکرلے۔[ اس حدیث کو امام احمدنے روایت کیا ہے]

نماز کا شروع کرنا اور فاتحہ پڑھنا۔

- نمازی اپنے سر کو جھکائے اور اپنی نگاہ کو اپنے سجدے[ اس حدیث کو امام بخاري نے روایت کیا ہے] والی جگہ پر رکھے اور پھر کہے " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَ تَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " [اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

پھر اسکے بعد کہے " أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" "بسم الله الرحمن الرحيم " [اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

اور اسکے بعد فاتحہ پڑھے اور آمین کہے یعنی قبول کر۔[ اس حدیث کو امام بخاري نے روایت کیا ہے]

- پھر نمازی فاتحہ کے بعد کوئی سورۃ پڑھے یا جو اسکو قرآن میں سے آسان لگے وہ پہلی دو رکعتوں میں پڑھے۔ فجر اور مغرب کی پہلی دو رکعتوں اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں اونچی آواز کے ساتھ قراءت کرے۔

رکوع اور اس سے اٹھنا

نمازی اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھائے اور جھکتے ہوئے تکبیر کہے اور ہاتھوں کی انگلیاں کھولتے ہوئے انکو گھٹنوں پر اس طرح رکھے گویا کہ انکو پکڑ لیا ہے۔ اور اپنی پیٹھ اور سر کو برابر کرے اور پھر " سبحان ربي العظيم " [امام ترمذی نے اس کو روایت کیا ہے]

تین بار پڑھے۔ پھر اٹھے اور امام اورمنفرد دونوں " سمع الله لمن حمده" [امام ترمذی نے اس کو روایت کیا ہے]

کہیں اور پھر سب کہیں " ربنا ولك الحمد، ملء السموات، وملء الأرض، وملء ما بينهما، وملء ما شئت من شيء بعد " "[امام ترمذی نے اس کو روایت کیا ہے]

اور مستحب یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں کو اپنے سینے پر رکھے جیسا کہ رکوع سے پہلےقیام میں کیا تھا۔

سجدہ کرنا اور اس سے اٹھنا

- نمازی تکبیر کہتے ہوئے سجدہ میں چلا جائے اورسجدے میں جاتے ہوئے سب سے پہلے گھٹنے ، پھر اسکے ہاتھ، پھر پیشانی اورآخر میں ناک زمین کو چھو لے۔[ امام ابو داؤد نے اس کو روایت کیا ہے]

اور اپنی ہتھیلیوں کو کانوں یا کندھوں کے برابر پھیلا دے اور اپنی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف کر دے اور اپنی کہنیوں کو زمین سے بلند رکھے اور اپنے بازؤں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھے اور اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے اور " سبحان ربي الأعلى " تین مرتبہ کہے اور اپنے سجدوں میں دعاؤں کی کثرت کرے۔[ اس کے امام مسلم نے روایت کیا ہے]

- پھر اپنے سر کو تکبیر کہتے ہوئے بلند کرے اور اپنے ہاتھوں کو نہ اٹھائے اور بائیں پاؤں کو بچھاتے ہوئے دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے ہوئےاور انکی انگلیوں کو قبلہ رخ کرتے ہوئے بیٹھ جائے [ اس کے امام مسلم نے روایت کیا ہے]

اور دونوں ہاتھوں کو رانوں پر کشادہ کر کے رکھے اور ہاتھوں کی انگلیوں کو قبلہ رُخ کرے اور کہے " اللهم اغفر لي، وارحمني، واجبرني، واهدني، وارزقني " [امام ترمذی نے اس کو روایت کیا ہے]

 

- پھر اللہ اکبر کہے اور دوسرا سجدہ بھی پہلے کی طرح کرے۔

- پھر اپنے سر کو تکبیر کہتے ہوئے بلند کرے اور تھوڑا سا بیٹھے جسکو جلسۃ الاستراحۃ بھی کہتے ہیں۔ حضرت مالک بن حویرث رضي الله عنه نبی کریم ﷺ " کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ اللہ اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب بیٹھ کر کچھ آرام نہ فرما لیتے پھر دوسری رکعت کے لیے اپنے ہاتھوں پر سہارا لیتے ہوئے اٹھےپھر دوسری رکعت پہلی کی طرح پڑھےلیکن شروع میں سبحانک اللھم نہ پڑھےس "۔ [اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

تشھد

- جب نمازی پہلی دو رکعتوں سے فارغ ہو جائے تو پہلے اپنے بائیں پاؤں کو بچھاتے ہوئے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے ہوئے تشھد کےلیے بیٹھ جائے اور ہاتھوں کو رانوں پر رکھ لے اور بائیں ہاتھ کوکھول لے اور دائیں ہاتھ کی مٹھی بنا لے اور شہادت والی انگلی کو بلند رکھے۔

تشھد کے وقت شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اسکی طرف دیکھے اور کہے " التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إِله إِلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله " [اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

۔ اگر نماز دو رکعتوں سے زیادہ ہو تو تکبیر کہتے ہوئے ہاتھوں کو تکبیر کے ساتھ بلند کرتے ہوئے اٹھے۔ اور باقی رکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھے اور اسکے ساتھ سورۃ نہ ملائے۔

اور آخری تشہد میں تورک کے ساتھ بیٹھے۔ [ امام ابو داؤد نے اس کو روایت کیا ہے] اور تورک یہ ہے کہ اپنے بائیں پاؤں کو دائیں طرف بچھاتے ہوئے نکالے اور اپنی سرین پر بیٹھے اور اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا رکھے

اور تشھد پڑھے اور درود پاک پڑھے" اللهم صل على محمد وعلى آل محمد، كما صليت على إِبراهيم وعلى آل إِبراهيم إِنك حميد مجيد. اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على إِبراهيم وعلى آل إِبراهيم إِنك حميد مجيد " [اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

پھر کہے " اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم، ومن عذاب القبر، ومن فتنة المحيا والممات، ومن شر فتنة المسيح الدجال "[اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

سلام پھیرنا

اور نماز کے آخر میں نمازی اپنی دائیں جانب سلام پھیرے اور کہے " السلام عليكم ورحمة الله "[اس کے امام مسلم نے روایت کیا ہے] اور بائیں جانب بھی اسی طرح سلام پھیرے۔

 احرام کی تکبیر
 فاتحہ کی قراءت
 رکوع اور اس سے اٹھنا
 سجدے اور اس سے اٹھنا
 دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا

 دوسرے تشھد کے لیے بیٹھنا

 

 

 سلام پھیرنا

 

نماز کے بعد کے اذکار

- " أستغفر الله " تین مرتبہ "اللهم أنت السلام، ومنك السلام، تباركت يا ذا الجلال والإكرام"[ اس کے امام مسلم نے روایت کیا ہے]

- " لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد "[اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

- "لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد وهو على كل شيء قدير. لا حول ولا قوة إلا بالله، لا إله إلا الله، ولا نعبد إلا إياه، له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن، لا إله إلا الله، مخلصين له الدين ولو كره الكافرون"[ اس کے امام مسلم نے روایت کیا ہے]

- " سبحان الله، والحمد لله، والله أكبر" (تینتیس بار) "لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير "[اس کے امام مسلم نے روایت کیا ہے]

- " اللهم أعني على ذكرك، وشكرك، وحسن عبادتك "[ امام ابو داؤد نے اس کو روایت کیا ہے]

- قراءت: آیۃ الکرسی، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، سورۃ الناس۔[اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے]

- اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك

مسئلہ

نماز کے طریقے میں عورت آدمی کی طرح برابر