ہوم /حج اور عمرہ کے خواص

حج اور عمرہ کے خواص


حج کی خصوصيات

جو بھی شخص حج کا ارادہ کرے اس کا حج تين صورتوں پر مشتمل ہوگا ۔ حج قران حج تمتع اور حج افراد۔حج تمتع والا عمرہ کرنے بعد احرام سے حلال ہو جاتا ہے اور حج قران کرنےوالا اور حج افراد کرنے والا احرام کی حالت ميں رہے گا۔ ، اور حج کے اعمال آٹھویں ذی الحجہ کےدن سے شروع ہوتے ہیں تیروہیں دن ختم ہوتے ہیں ۔

ذی الحجہ کا آٹھواں دن "یعنی یوم ترویہ" [ اس دن کو يو م ترويہ اسلئے کہتے ہيں کہ ترويہ عربی ميں سيرابی کو کہتے ہيں اور پہلے زمانے ميں حجاج کرام اپنے ساتھ اتنا پانی لے کر جاتے تھے جو ان کيلئے وہاں عرفات اور منی ميں کافی ہو سکے کيونکہ وہاں پانی نہيں ہواکرتاتھا ]

1- حاجی کیلئے مسنون یہ ہے کہ وہ آٹھویں کے دن ظہر سے پہلے احرام باندھے، اور وہ احرام باندھے اپنی جگہ سے اگر وہ مکہ میں ہے تو مکہ سے احرام باندھے، اور اگر وہ منی میں ہے تو منی سے احرام باندھے، اور وہ غسل کرے ، اور خوشبو لگائے ، اور احرام والےکپڑے پہنے اور تلبیہ حج کہے "لبيك اللهم حجًّا، لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك "[ يہ بخاری کی حديث ہے]

2- منی کی طرف جائے وہاں ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء کی نمازیں پڑھے اور فجر کی نماز 9 ذی الحجہ کوادا کرے ہر نماز اسکے وقت میں ادا کرے ، اور چار رکعت والی نما ز میں قصر کرے گا اور۹ ذی الحجہ کو سورج کے نکلنے تک منی میں رہے گا اور تلبیہ کثرت سے کہنا مسنون ہے ۔

غسل کا باتصوير طريقہ
خوشبو لگانے کا باتصوير طريقہ
احرام کی تصوير
منی کا منظر

ذی الحجہ کا نواں دن “ یعنی یوم عرفہ”

1- اس دن جب سورج طلوع ہو تو حاجی تلبیہ کہتے ہوئے عرفہ کی طرف روانہ ہو، اور سنت طریقہ یہ ہے کہ حاجی مسجد نمرہ میں سورج کے زوال تک قیام کرے اگر یہ اسکے لیے آسان ہو، پس جب سورج ڈھل جائے اور ظہر کا وقت داخل ہو جائے تو مسلمانوں کا امام یا اسکا نائب خطبہ دے اور مناسب یہ ہے کہ خطبہ مسلمانوں کی موجودہ حالت پر مشتمل ہو ، اور خطبے میں توحید کا درس ہو اور انکو حج کے احکام اور دین کی اہم باتیں بتلائے۔

2- پھر ظہر اور عصر کی نماز قصر پڑھی جائے گی اور حاجی کیلئے ضروری ہے کہ قبلہ رخ ہو کر توبہ اور استغفار کثرت سے کرتا رہے خوب عاجزی اور انکساری سے یہ مسنون دعا مانگے جیسے کہ " آپ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور بہتر وہ ہے جو میں نے کہا اور جو مجھ سے پہلے انبیاء نے کہا :ترجمہ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ وہ اکیلا ہے اور اسکا کوئی شریک نہیں ہے اسی کیلئے بادشاہت ہے اور اسی کیلئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے " [ يہ ترمذی کی حديث ہے]

اور زیادہ مناسب یہ ہے کہ مسنون دعاؤں کا ورد کرے اور اپنی طرف سے دعائیں مانگنے سے اجتناب کرے اگر قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے تو یہ بھی اچھا ہے آپ ﷺ پر درود پاک بھیجتا رہے حاجی کا میدان عرفہ سے مغرب سے پہلے لوٹنا ہرگز جائز نہیں ہے اگر وہ مغرب سے پہلے عرفہ سے نکل پڑے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ عرفہ کی طرف لوٹ آئے چاہے نصف رات ہی کیوں نہ ہو ، اگر وہ مغرب سے پہلے عرفہ سے نکلتا ہے اور واپس لوٹ کر نہیں آتا تو اس پر دم یعنی قربانی لازم ہے دم ایک بکری ہے یا گائے کا ساتواں حصہ ہے۔

مزدلفہ کا منظر
نمرہ کا منظر
عرفات کے ميدان کا منظر
توجيہات

1- عرفہ میں حاجی کا وقوف ضروری ہے چاہے کھڑا ہو یا بیٹھا ہو یا ليٹا ہو یا سوار ہو، وقوف سے مراد قیام ہرگز نہیں ہے۔

2- عرفہ کا وقوف حج کا لازمی رکن ہے وقوف عرفہ کے بغیر حج ادا نہیں ہوتا جب وقوف عرفہ فوت ہو جائے تو حج بھی فوت ہو جاتا ہے کیونکہ آپﷺ نے فرمایا " حج عرفہ ہے "[ يہ حديث اما م احمد سے مروی ہے]

3- ۹ویں ذی الحجہ کوطلوع فجر سے وقوف عرفہ کا وقت شروع ہوتا ہے اور ۱۰ ذی الحجہ کو طلوع فجر تک ختم ہو جاتا ہے، اگر کوئی شخص عرفہ میں ایک لمحے کا قیام بھی کرلے تو اسکا حج ادا ہو جاتا ہے اگر کوئی شخص عرفہ میں بالکل وقوف نہ کرسکے تو اسکا حج ادا نہیں ہوگا کیونکہ ابن عباس سے مرفوع حدیث ہے کہ "جس نے وقوف عرفہ طلوع فجر سے پہلے پالیا تو اس نے حج کو پالیا۔ "[ صحيح الجامع ميں امام البانی نے اس حديث کی ۵۹۹۵نمبر پر تصحيح کی ہے]

4- عرفہ سب کا سب وقوف کیلئے ہے جہاں چاہے وقوف کرے آپﷺ نے چٹانوں کے قریب قبلہ رخ ہو کر وقوف کیا تھا اور آپﷺ نے فرمایا " کہ میں یہاں وقوف کر رہا ہوں اور عرفہ سب کا سب وقوف کیلئے ہے "[ يہ حديث مسلم کی روايت ہے]

اگر حاجی کو دقت پیش نہ ہو تو جہاں پر آپﷺ نے وقوف کیا وہاں وقوف کرے لیکن اگر مشکل پیش آئے تو جہاں بھی آسانی ہو وہاں وقوف کرے عرفہ سے پہلے ایک وادی ہے جس کا نام وادی عرفہ ہے وہاں وقوف کرنا ٹھیک نہیں ہے پہاڑی پر اور چٹانوں پر بھی نہ چڑھےعرفہ کی تمام حدود معلوم ہیں اب تو وہاں جدید علامات نصب کی گئی ہیں جو کہ ہر طرف سے بالکل واضح نظر آتیں ہیں۔

5- حاجی کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس دن کی عظمت اور فضیلت کو ذھن میں رکھے اور اللہ تعالیٰ اس دن اپنے بندوں کے ساتھ نہایت سخاوت والا معاملہ کرتے ہیں اور فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتے ہیں اور بخشش کے دروازے کھولے رکھتے ہیں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ آگ سے نجات دلاتے ہیں آپﷺ نے فرمایا " عرفہ کے علاوہ کوئی اور دن ایسا نہیں جس میں اللہ جل شاُنہ زیادہ سے زیادہ اپنے بندوں کوآگ سے نجات دیتا ہے پھر وہ اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتاہے اور فرماتاہےکہ یہ میرے بندے کیا چاہتے ہیں؟ "[ يہ حديث مسلم کی روايت ہے]

حاجی کو چاہیئے کہ وہ اس دن کے لمحات کو غنیمت جانے توبہ اور استغفار کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے گھومنے پھرنے اور فضول باتوں اور لوگوں کے ساتھ بحث و مباحثہ میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔

مزدلفہ کی طرف جانا اور وہاں رات گزارنے کا بیان

1- غروب آفتاب کے بعد حاجی عرفہ سے مزدلفہ کی طرف لوٹے اور مسنون یہ ہے کہ حاجی سکون و اطمینان کے ساتھ لوٹے یہاں تک کہ وہ لوگوں کو تکلیف نہ پہنچائے، اور وہ تلبیہ کہنے والا اور اللہ جل شاُنہ کا ذکر کرتارہے ۔

2- حاجی مزدلفہ ميں اپنے سامان وغيرہ رکھنے سے پہلے عشاء اور مغرب کی نماز کو ملا کر پڑھےاور عشاء کی نماز قصر پڑھے۔

3- اور مزدلفہ میں یہ رات گزارنی واجب ہے اور فجر کی نماز پہلے وقت ميں ادا کرے۔ مزدلفہ سے صرف عذر کی صورت ميں جاسکتا ہے جيسے کہ کمزور عورتيں اور بچے اور وہ لوگ جو انکے رفيق سفر ہوں ۔اور خادمين حج بھی جاسکتے ہيں ان تمام مذکورہ افراد کے جانے کا وقت رات کآ اخری پہر ہے جب چاند غروب ہو جائے۔

4- اور جب حاجی فجر کی نماز پڑھے تو مستحب ہے کہ مشعر الحرام کے پاس آئے اور قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہاتھوں کو بلند کرکے کثرت سے ذکر اور تکبیر اور دعا کرتا رہے

یہاں تک کہ خوب روشنی پھیل جائے اور مزدلفہ میں جہاں چاہے قيام کرے۔کيونکہ حضور ﷺ نے فرمايا" کہ میں نے يہاں قيام کيااور مزدلفہ سب کا سب قابل وقوف ہے " [ يہ حديث مسلم کی روايت ہے] اور جمع سے مراد مزدلفہ ہے

5- اور جب حاجی مزدلفہ سے واپس آجائے تو مستحب ہے کہ شیطانوں کو مارنے کیلئے سات کنکریاں اٹھائے پہلے دن کیلئے اور باقی دنوں کیلئے کنکریاں منی سے لے اور جس بھی جگہ سے لے جائز ہے۔

ذوی الحجہ کا دسواں دن “ عید کا دن”

1- فجر کی نماز پڑھے پھر سورج کے نکلنے سے پہلے دعا اور ذکر کیلئے فارغ ہو جائے۔

2- سورج نکلنے سے تھوڑی دیر پہلے حاجی منی کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے مزدلفہ سے واپس ہو جائے ، اور راستے میں کثرت سے تلبیہ کہے اور جب وادی محسر پہنچ جائے تو جلدی سے جائے اور یہ وادی منی سے پہلے منی اور ،مزدلفہ کے درمیان ہے۔ جب منی پہنچ جائے تو عید کے دن والے کاموں میں لگ جائے ۔

اور اسکی مختصر تفصیل: جمرہ عقبہ کی رمی کرنا، اور قربانی کرنا ، اور سر منڈھوانا یا بال کتروانا اور طواف کرنا اور صفاء و مروہ کے درمیان سعی کرناہے۔

3- اور جب حاجی منی پہنچ جائے تو جمرہ عقبہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور یہ آخری شیطان ہے منی کی طرف سے اور پہلاہے مکہ کی طرف سے پس جب ادھر تک پہنچ جائے تو تلبیہ ترک کر دے اور شیطان کو سات مسلسل کنکریوں سے مارے

اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتارہے اور اسکا مستحب وقت عید کے دن کے صبح سے شروع ہوتا ہے اور اگر اس نے صبح سے پہلے رات کے آخری حصے میں رمی کی تو بھی ٹھیک ہے ، اور رمی کا وقت گیارہویں کے دن کے صبح کے طلوع ہونے تک ہے

توجيہات

- مسلمان پر یہ لازم ہے کہ اپنے حاجی بھائیوں کو تکلیف دینے سے اجتناب کرے خاص کر شیطانوں کو مارنے کی جگہ اور حج کے باقی شعائر کے اداکرنے کے دوران۔

- اور حاجی کو چاہیئے کہ اس بات کا خیال رکھے کہ کنکری کو “مرمی کے حوض میں ڈالے” بعض لوگ اس میں غلطی کرتے ہیں اور بعض لوگ اس کو دور سے مارتے ہیں پس کنکری مرمی میں نہیں پہنچتی اور اسطرح کرنے سے رمی جو کہ واجب ہے ادا نہيں ہوتی ۔

- اور مسلمان پر یہ لازم ہے کہ شیطان کو مارنے میں مبالغہ سے اجتناب کرے جیسا کہ بڑے پتھر سے مارنا یا جوتے سے مارنا ، پس سنت یہ ہے کہ کنکری کا سائز مٹر کے دانے سے تھوڑا سا بڑا ہو حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہيں کہ " میں نے حضور ﷺ کو دیکھا اس حال میں کہ وہ چھوٹی چھوٹی کنکریوں کے ساتھ شیطان کو مار رہے تھے [حصی الحذف:ان چھوٹی کنکريوں کو کہا جاتا ہے۔جن کو حاجی انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درميان رکھ کر رمی کرتا ہے] "[يہ حديث مسلم کی روايت ہے]

- اگر حاجی نےساری کنکریاں ایک ہی دفعہ مار دیں تو ایک ہی کنکری شمار ہو گی، اور اگر اس نے کمان یا تیر وغیرہ سے رمی کی تو یہ ٹھیک نہیں ہے بلکہ ہاتھ سے رمی کرنا لازمی ہے۔

4- آدمی سر کو مونڈوائےگا یا پھر سارے سر کے بالوں کو چھوٹا کرے گا اور مونڈوانا بہتر ہے کتروانے سے، عورت سر کے بال بقدر ایک پورے کتروائے گی۔

5- حاجی مکہ مکرمہ واپس آئے اور طواف افاضہ کرے اس طواف میں رمل اور اضطباع نہیں ہے اور طواف کے بعد دو رکعت طواف ادا کرے، بہتر اس طواف میں یہ ہے کہ رمی وحلق کے بعد وہ احرام کے کپڑے اتارلے اور معمول کے کپڑے پہن لے اور خوشبو لگالےحضرت عائشہ کی حدیث جس میں وہ فرماتی ہیں " میں رسول اللہ ﷺ کو احرام کیلئے خوشبو لگاتی تھی جب آپﷺ احرام باندھتےتھے اور جب وہ احرام سےحلال ہو جاتے تب بھی بیت اللہ کے طواف سے پہلے خوشبو لگاتی تھی "[ يہ جديث متفق عليہ ہے]

6- طواف کا وقت عید والے دن طلوع فجر کے بعد شروع ہوتا ہے اور وہ حاجی جس نے بڑھاپے یا کمزوری کیوجہ سے مزدلفہ سے آنے میں جلدی کی تو اس کیلئے عید کی رات کے آخری حصے میں بھی طواف افاضہ کرنا جائز ہے اور طواف وداع کو عید کے دن سے لیٹ بھی کیا جا سکتا ہے لیکن یہ افضل نہیں ہے یا خلاف راجح ہے ۔

7- طواف افاضہ کے بعدحج تمتع کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے اور حج افراد اور قران کرنے والے اگر طواف قدوم کے بعد صفاومروہ کے درمیان سعی کر چکے ہوں تو ان پر طواف افاضہ کے بعد سعی نہیں ہے اور جب حاجی طواف افاضہ اور سعی “اگر اس پر تھی” سے فارغ ہوگیا تو عید کے دن کے اعمال ختم ہوگئے اور اسے چاہیئے کہ وہ منی لوٹ جائے اور گیاہویں رات وہاں گزارے۔

جمرہ عقبہ کی رمی کرنے کا باتصوير طريقہ
ہدی ذبح کرنے کی تصوير
حلق اور قصر کی صورتيں
طواف کرنے کا باتصوير طريقہ
صفا اور مروہ کی سعی
منی ميں رات کا منظر

عید کے دن کے اعمال کی ترتیب

عید کے دن اعمال گزری ہوئی ترتیب کے مطابق سنت ہیں یعنی پہلے کنکریاں مارنا پھر قربانی ذبح کرنا پھر سر مونڈوانا پھر طواف اور آخر میں سعی کرنا اگر اس پر سعی ہے اگر ان اعمال کی ادائیگی میں تقدیم و تاُخیر سے کام لیا گیا تب بھی جائز ہے

کیونکہ رسول اللہﷺ نے ترتیب پر زیادہ زور نہیں دیا پس اگر کسی حاجی نے پہلے حلق کیا پھر رمی کی ٹھیک ہے اور اگر پہلے قربانی ذبح کی پھر طواف کیا اور پھرشیطان کو کنکریاں ماریں تب بھی ٹھیک ہے کیونکہ جب رسول اللہﷺ سے اس دن کے اعمال میں تقدیم و تاُخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمای"کرو کوئی حرج یا نقصان نہیں " [ يہ جديث متفق عليہ ہے]

- پہلی حلت اور دوسری حلت :

پہلی حلت عبارت ہے ان ممنوع چیزوں کے مباح ہونے سے جو احرام کی وجہ سے محرم پر حرام ہو گئی تھیں البتہ جماع عورتوں کے ساتھ بوس و کنار و عقد نکاح جائز نہیں ہوتا یہ تین چیزیں حاجی کیلئے اس وقت تک جائز نہیں ہوتیں جب تک وہ مندرجہ ذیل کاموں میں سے کوئی سے دو کام نہیں کر لیتا : بڑے شیطان کو کنکریاں مارنا ، سر مونڈوانا یا کتروانا ہےطواف مع سعی کرنا۔

دوسری حلت ان تمام چیزوں کے جائز ہونے سے عبارت ہےجو احرام کی وجہ سے محرم پر حرام ہوئے تھے اور یہ حلت گزشتہ تمام اعمال کے سر انجام دینےکے بعد حاصل ہوتی ہے ۔

قربانی کے ذبح کا حلات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اگر قربانی کے ذبح کو گیارہویں دن تک کیلئے مؤخر کر دیا گیا اور عید کے دن کے دوسرے اعمال کر لیے تب بھی حلت حاصل ہو جائے گی اگرچہ قربانی کو ذبح نہ کیا ہو۔

تشریق کے دن

ایام تشریق تین ہیں: ذوالحجہ کا گیارہواں، بارہواں اور تیرہواں دن، ان دنوں کو ایام تشریق اس لئے کہا جاتاہے کہ ان دنوں میں قربانی کے گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جاتا ہے پھر ان ٹکڑوں کو چھوٹے چھوٹے یا رجوں میں کاٹا جاتا ہے اور سورج کی روشنی میں سوکھایا جاتا ہے رسول اللہﷺ نے ان دنوں کے بارے میں فرمای" خبر دار یہ دن کھانے ، پینے اور اللہ کو خوب یاد کرنے کے ہیں "[يہ ابو داود کی حديث ہے]

گیارہواں دن اور اسکی رات

گیارہویں رات منی میں گزارنی واجب ہے گیارہویں دن سورج کے زوال کے بعد شیطانوں کو کنکریاں ماری جائیں گی ہر شیطان کو سات کنکریاں ماری جائینگی ۔

- رمی کا طریقہ :

حاجی پہلے شیطان سے شروع کرے گا اور اسکو پے در پے سات کنکریاں مارے گا اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے گا اور ہر کنکری کا حوض میں گرنا ضروری ہے پھر اس جگہ سے تھوڑا سا آگے بڑھ کر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگے گا پھر درمیانے شیطان کو پہلے شیطان کی طرح سات کنکریاں مارے گا اور پھر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگے گا اور آخر میں بڑے شیطان کو سات کنکریاں مارے گا اور اسکے بعد دعا کیلئے کھڑا نہیں ہو گا۔

جمرہ وسطی کی تصوير
جمرہ اولی کی تصوير
جمرہ عقبہ کی تصوير

بارہويں دن اور اسکی رات

باریویں رات بھی منی میں گزارنی واجب ہے اور زوال شمس کے بعد تین شیطانوں کو اسی طرح مارے گا جیسے اس نے گیارہویں دن گیا تھا۔

اگر کوئی اس دن جلدی کرانا چاہتا ہے تو رمی کرنے کے بعد غروب آفتاب سے پہلے وہ منی سے نکل کھڑا ہو اگر سورج غروب ہو گیا اور سہ منیٰ میں رہا تو اسکے لئے رات کا ٹھہرنا لازم ہو جاتا ہے اور تیرہویں دن کی رمی بھی لازم ہو جاتی ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ وہ تاُخیر کرے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے " کہ پھر اگر کوئی جلدی کرے اور دو دن میں واپس چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو کوئی دیر کرے اس پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ اس دن برائیوں سے بچے اور فرائض الٰہیہ کے ادا کرنے میں صرف کیےہوں "۔

اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایام تشریق کے گیارہویں اور بارہویں دن جلدی کرے تو کوئی حرج نہیں ہے یا تاُخیر کرے تو تیرہواں دن پورا کرے۔

تیرہواں دن اور اسکی رات

تیرہویں دن زوال کے بعد اسی طرح رمی کرے جس طرح اس نے گیارہویں دن کی تھی اور رمی کا وقت غروب آفتاب کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔

رمی میں تاُخیر

اگر حاجی رمی میں تاُخیر کرے تو کوئی حرج نہیں ایام تشریق سب کے سب رمی کیلئے خاص ہیں۔

تاُخیر شدہ رمی کا بیان

پہلے دن رمی جمرات ثلاثہ سے شروع کرے پھر جمرہ صغریٰ کی طرف لوٹے اور اس دن کے بعد والے دن رمی کرے اور رمی کا مناسب وقت زوال کے بعد کا ہے

الوداعی طواف

جب حاجی مکہ سے نکلنے کا ارادہ کرے تو الوداعی طواف کرے یہ طواف بھی واجبات حج میں شامل ہے حیض اور نفاس والی عورت پر یہ طواد واجب نہیں ہوتا۔

افاضہ کو رخصتی تک مؤخر کرنا

اگر حاجی طواف افاضہ کو عین رخصتی کےوقت تک مؤخر کرے جائز ہے لیکن یہ افضلیت کے خلاف ہے اگر طواف افاضہ میں وداع کی نیت کرے تو کافی ہو گا۔

طواف کی حکمت ...

طواف ، رمی ، سعی کا مقصد اللہ کا ذکر قائم کرنا ہے جیسے کہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا " کہ بیت اللہ کا طواف صفا و مروہ کےدرمیان سعی کرنا اور رمی کرنا یہ سب اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنےکہ غرض سے ہیں۔ "[ يہ ابو داود کی حديث ہے]

عمرہ کی صفت یا خاصیت

1- جب عمرہ کرنے والا میقات تک پہنچ جائے تو غسل کرے خوشبو لگائے اور احرام باندھ لے اور عمرہ کی نیت کرے یہ کہتے ہوئے۔«لبيك عُمْرَة»

خوشبو لگانے کا باتصوير طريقہ
غسل کا طريقہ
احرام کرنے کا باتصوير طريقہ

2- شروع کرے تلبیہ یہ کہتے ہوئے " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ "[ يہ بخاری کی حديث ہے] اور تلبیہ کہتا جائے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھ لے اور حجر اسود کو چوم لے۔

3- مسجد میں داخل ہونے کیلئے جائے اور دائیں طرف سے مسجد میں داخل ہو اور مسجد میں داخل ہونے کی دعا بھی پڑھ لے ۔

4- تلبیہ ترک کرے اور بیت اللہ کا طواف کرنا شروع کردے پس حجر اسود سے شروع کرے اسکو چومنے ساتھ اگر ممکن ہو ا نہیں تو اسکو اشارہ کرے اور کہے "بسم الله والله أكبر، اللهم إيمانًا بك، وتصديقًا بكتابك، ووفاءً بعهدك، واتباعًا لسنة نبيك محمد ﷺ "[يہ امام بہقی سے مروی ہے]

5- بیت اللہ کو اپنے دائیں ہاتھ پر رکھے اور سات چکر لگائے حجر اسود سے شروع کرے اور اسی پر ختم کرے۔

6- پہلے تین چکروں میں رمل کرنا سنت ہے اور رمل یہ ہے کہ تیزی سے چلے اور زور سے قدم اٹھائے اور قدم نزدیک نزدیک رکھے اورکندہوں کو خوب پہلوانوں کی طرح ہلاتا ہوا چلے

اور سارے طواف میں اضطباع کرنا سنت ہے اور وہ یہ ہے کہ دائیں کندھے کو ننگا رکھے اور چادر اسکے نیچے سے لا کر اس کے دونوں سروں کو بائیں کندھے پر ڈال دے۔

طواف کی شرائط
طواف میں نیت ، پاکی ، ستر کا دھانپنا، سات چکر لگانا، حجر اسود سے ابتدا کرنا بیت اللہ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا اور چکروں میں تسلسل شرط ہے اس وقت تسلسل شرط نہیں جب نماز قائم ہو جائے یا جنازہ سامنے آجائے ہس وہ نمازپڑھ لے اور جنازے میں شریک ہو جائے اور پھر وہاں سے طواف شروع کرے جہاں سے اس نے چھوڑا تھا، اور طواف سارے بیت اللہ کا ہونا چاہیئے اگر وہ طواف کے دوران حجر میں داخل ہو گیا تو طواف ٹھیک نہیں ہے۔کیونکہ حجر بیت اللہ میں سے ہے۔

7- طواف میں طواف کرنے والا جو دعا مانگنا چاہے مانگ سکتا ہے اور جب وہ رکن یمانی کے قریب پہنچے تو اسے چوم لے اور تکبیر کہے اگرچومنے کی طاقت نہ ہو تو اشارہ نہ کرے اور نہ ہی تکبیر کہے اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان "ربنا آتنا في الدنيا حسنةً، وفي الآخرة حسنةً، وقنا عذاب النار "[ يہ ابوداود کی حديث ہے] پڑھے۔

8- جب ساتویں چکر سے فارغ ہو جائے تو چادر کے ساتھ اپنے دونوں کندھوں کو ڈھانپ لے اور اضطباع ترک کر دے کیونکہ اضطباع طواف عمرہ یا طواف قدوم میں سنت ہے۔

پھر اگر ممکن ہوا تو مقام ابراھیم کی طرف چلا جائے اور دو رکعت پڑھ لے پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد “الکافرون” اور دوسری میں “الاخلاص” پڑھے اور اگر مقام ابراھیم کے پیچھے نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو جہان چاھے پڑھ لے۔

توجیھات

1- مسلمان کو چاہیئے کہ وہ حجر اسود کے تقبیل اور استلام کے سلسلے ميں لوگوں کو تکلیف پہنچائے اور نہ ہی اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے اور اسی طرح وہ رمل بھی نہ کرے اگر اسکے رمل کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہو۔

2- طواف کے دوران وہ دعائیں پڑھے جو اسکے لیے آسان ہوں ان مذکورہ دعاؤوں کے علاوہ طواف کيلئے کوئی خاص دعا نہيں ہے۔ اگر طواف میں قرآن کی تلاوت کرے تو بھی ٹھیک ہے۔

3- اضطباع طواف قدوم اور عمرہ کےہر چکر میں سنت ہے۔

4- عورت کیلئے اپنی زینت کو ظاھر کرنا خوشبو لگانا جائز نہیں اور اونچی آواز سے ذکر اور دعا مانگنا بھی جائز نہیں ہے۔

9- جب صفا کی طرف نکلے اور قریب ہو تو قرآن کی یہ آیت تلاوت کرے "صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اس لئے بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں اپنی خوشی سے بھلائی کرنے والوں کا اللہ قدر دان ہے اور انہیں خوب جاننے والا ہے۔"

10- قبلہ رخ ہو کر صفا پر چڑھے اور ہاتھوں کو اٹھاکر تکبیر کہے اور اللہ کی تعریف کرے اور کہے "لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ الله وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ " [ يہ بخاری کی حديث ہے]

یہ ذکر کرنے کے بعد دعا مانگے پھر دوبارہ وہی ذکر کرے اور دعا مانگے پھر وہی ذکر کرے اور دعا مانگے۔

11- مروہ کی طرف متوجہ ہوکر صفا سے اترے اور دو سبز نشانیوں کے درمیان چلنے میں تیزی کرے اور مروہ پر چڑھ جائے اور وہی کرے جو اس نے صفا پر کا تھا۔ [يہ وہ تو علامتيں ہيں جس کے درميان جضرت ہاجرعليہ السلام تيز دوڑتی تھيں]

12- صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے “جانا ایک چکر شمار ہوگا اور لوٹنا دوسرا چکر شمار ہوگا” سعی میں باوضو ہونا سنت ہے اگر حاجی نے بےوضو سعی کی تب بھی ٹھیک ہے جیسا کہ تسلسل سعی اور طواف کے چکروں میں سنت ہے۔

صفااور مروہ کے درميان سعی کا منظر

13- سعی کے بعد آدمی اپنے سر کے بال کٹوائے، اتنے بال کٹوائے کہ بالوں کی کٹائی واضح طور پر نظر آنے لگے اورعورت اپنے بالوں کو ايک پورے مقدار تمام اطراف سے چھوٹے کروائے۔

اور مرد کیلئے افضل سر کو منڈوانا ہے اس لیے کہ یہ حضرت ابو ھریرۃ سے ثابت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " اے اللہ سرمونڈوانے والوں کی مغفرت فرما صحابہ کرام نے کہا : اوربال کتروانے والوں کا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سر مونڈوانے والوں کی مغفرت فرما، صحابہ نے پھر کہا: اور بال کتروانے والوں کا؟ تورسول اللہﷺ نے تیسری دفعہ بھی وہی جملہ دھرایا اور پھر کہا اور سر کترروانے والوں کی بھی مغفرت فرم "[ يہ بخاری کی حديث ہے]

اور اگر اس نے حج تمتع کی نیت کی ہوئی ہو اور عمرہ اور حج کے درمیان اتنی مدت نہ ہو کہ اسکے بال بڑھ جائیں تو اسکے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ سر کے بال کتروائے اور حلق کو حج کیلئے مؤخر کردے۔

14- احرام سے اپنے آپ کو حلال کرلے اس کے ساتھ ہی اسکا عمرہ پورا ہو گیا۔

عورت طواف اور سعی میں مرد کی طرح ہے مگر یہ کہ وہ طواف میں رمل نہیں کرے گی صفا اور مروہ کے درمیان سعی میں تیزی نہیں کرے گی اور نہ سر منڈہوائے گی بلکہ سر کے سارےبال انگلی کے پورے کے برابر چھوٹے کرے گی۔