نماز کا مقام اور اسکا حکم

نماز کی تعریف

نماز کا لغوی معنی

دعاء ہے

صلاۃ کا شرعی معنی

اقوال مخصوصہ اور افعال مخصوصہ کے ساتھ اللہ کی بندگی اختیار کرنا، تکبیر کے ساتھ شروع کرنا، سلام پر ختم کرنا۔

اسلام میں نماز کا مقام اور مرتبہ

1۔ نماز ارکان اسلام میں سے دوسرا رکن ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرن"۔[ اس پر امام بخاری اور مسلم کا اتفاق ہے]

2۔ نماز اعمال میں افضل ترین عمل ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا "اعمال میں افضل ترین عمل نماز کو اسکے اوّل وقت میں ادا کرنا ہے۔"[ امام ترمزی نے اسکو روایت کیا]

3۔ نماز اسلام اور کفر میں فاصلہ کرنے والی اہے۔

آپ ﷺ نے فرمای"بے شک آدمی کے درمیان اور کفر و شرک کے درمیان فرق نماز کو چھوڑنا ہے"[ امام مسلم نے اسکو روایت کیا]

4۔ نماز اسلام کا ستون ہے پس اسی پر توحید کے بعد اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

آپ ﷺ نے فرمای"اس کام کا سر یعنی بنیاد اسلام ہے اور اسکا ستون نماز ہے"[ امام احمد نے اسکو روایت کیا]

نماز کی فضیلت

1۔ نماز صاحب نماز کے لیے نور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا "نماز نور ہے"[ امام مسلم نے اسکو روایت کیا ہے]

2۔ نماز گناہوں کا کفارہ ہے۔ اللہ عزّوجل نے فرمایا "دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں"

اور آپ ﷺ نے فرمای"تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم میں کسی کے گھر کے دروازے پر نہر ہو اور اُس سے ہر دن پانچ دفعہ غسل کیا جائے۔ کیا اُس پر کوئی میل باقی رہے گی؟" صحابہ نے عرض کی کوئی میل باقی نہیں رہے گی ۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا پس یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے۔ اللہ ان سے گناہوں کو مٹاتا ہے۔"[ یہ حدیث متفق علیہ ہے]

3۔ نماز جنّت میں دخول کا سبب ہے۔ آپ ﷺ نے ربیعہ بن کعب سے فرمایاجب اُس نے جّنت میں ساتھ رہنے کا سوال کیا۔"اپنے آپ کی مدد کرنا سجدوں کی کثرت کے ساتھ"[ اس حدیث کو امام مسلم نےروایت کیاہے]

حکم نماز

پانچ نمازیں واجب ہیں، کتاب اللہ کے ذریعے، سنّت کے ذریعے اور اجماع کے ذریعے:

1۔ قرآن پاک: اللہ نے فرمایا"اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو"

2۔ سنّت: آپ ﷺ نے فرمای"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک محمد ﷺ اُسکے بندے اور اسکے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔"[ یہ حدیث متفق علیہ ہے]

اور طلحہ بن عبیداللہ رضي الله عنه سے مروی ہے بے شک ایک آدمی نے رسول اللہ سے اسلام سے متعلّق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمای"دن اور رات میں پانچ نمازیں ھیں پھر حضرت طلحہ رضي الله عنه نے پوچھا کیا ان نمازوں کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ ھاں یہ کہ تو نفل پڑہے"[ یہ حدیث متفق علیہ ہے]

3۔ اجماع: پوری امّت کا پانچ نمازوں پر اجماع ہے۔

کس پر نماز واجب ہے؟

ہر مسلمان بالغ،عاقل،مذّکر اور موّنث پر نماز واجب ہے۔

نماز کی قضاء

کافر کو فوت شدّہ نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیا جائےگا جو اسلام سے پہلے فوت ہوئیں کیونکہ اسلام سے پہلے کے سارے احکام ختم کر دیتی ہے۔ ﷺ

نماز چھوڑنے والے کا حکم

1۔ نماز کا چھوڑنے والا اسکے وجوب کا انکار کرنے والا ہے۔

پس اگر وہ اپنے انکار پر ڈٹا رہے تو وہ کافر ہے، اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور اجماع امّت کو جھٹلانے والا ہے۔

2۔ نماز کو سستی کی وجہ سے چھوڑنے والا

جس نے جان بوجھ کر اور سستی کی وجہ سے نماز چھوڑی پس تحقیق اُس نے کفر کیا۔ اور بادشاہ پر لازم ہے کہ اسکو نماز کی طرف دعوت دے اور اُس پر توبہ پیش کرے تین ماہ تک۔ پس اگر توبہ کر لی تو ٹھیک ورنہ اُسکوارتداد کی وجہ سے قتل کر دے۔

اس لیے کہ رسول ﷺ اللہ نے فرمای"نماز ہمارے اور اُنکے درمیان ایک معاہدہ ہے پس جس نے اسکو چھوڑا اُس نے کفر کی"[ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے]

اور آپ ﷺ نے فرمای"بےشک آدمی اور کفرو شرک کے درمیان فرق نمازکا چھوڑنا ہے"[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

چھوٹے بچے کی نماز

آپ ﷺ نے فرمای"تم اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہو جائیں اور انکو مارو جب وہ دس سال کے ہو جائیں"[روایت کیا اسکو ابو داؤد نے]

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ بچہ جب سات سال کو پہنچ جائے تو اسے نماز پرھنے کا کہا جائے گا اور اس سے نماز کی مشق کروائی جائے گی اور جب دس سال کو پہنچ جائے تو نمازنہ پڑھنے کی وجہ سے اسےمارا بھی جائے گا۔