غسل

74

غسل کی تعریف

غسل لغت میں

کسی چیز پر پانی کو عام کرنے کو کہتے ہیں

غسل شریعت کی اصطلاح میں

عبادت کی غرض سے خاص طریقے پر انسانی جسم کو پانی کے ساتھ دھونے کو کہتے ہیں۔

غسل واجب کرنے والی چیزیں

1۔ منی کا نکلنا

منی سفید قسم کا گاڑھا پانی ہے جو شہوت اور چھلانگ لگاتے ہوئے نکلتا ہے اور خراب انڈے کی طرح اس کی بدبو ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کر لو"

اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا "جب آپ نے منی نکالی تو غسل کر لین"[ اس حدیث کو امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے]

اور فضخ الماء: شہوت کے ساتھ منی کے نکلنے کو کہتے ہیں۔

مسائل ...

1۔ اگر کسی آدمی نے خواب دیکھا لیکن اس کی منی نہیں نکلی تو اس پر غسل نہیں ہے۔البتہ اگر بیدار ہونے کے بعد منی نکل گئی تب غسل واجب ہے۔

2۔ اگر بیدار ہونے کے بعد کسی آدمی کو منی نظر آگئی لیکن اس کو خواب یاد نہیں تھا تب بھی اس پر غسل واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں "پانی پانی سے ہے"[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے] یعنی غسل منی کے نکلنے کی وجہ سے واجب ہوتا ہے۔

3۔ اگر کسی آدمی کو یہ احساس ہو گیا کہ اس کی منی اسکی پشت سے جدا ہو کر اس کے آلہء تناسل میں منتقل ہو چکی ہے لیکن باہر نہیں نکلی تو اس پر غسل نہیں ہے۔

4۔ اگر بیماری یا کسی اور چیز کی وجہ سے بغیر شہوت کے منی نکل گئی تو اس پر غسل نہیں ہے۔

5۔ اگر کسی آدمی نے جنبی ہونے کے بعد غسل کیا اور غسل کرنے کے بعد اس سے منی نکل گئی تو وہ دوبارہ غسل نہیں کرے گا کیونکہ عموماً یہ منی بغیر شہوت کے نکلتی ہے اور احتیاطاً وہ وضو کرلے۔

6۔ اگر کوئی آدمی نیند سے بیدار ہوا اور اس نے گیلا پن دیکھا لیکن اسے سبب یاد نہیں تھا تو اس کی تین حالتیں ہیں۔

أ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ اسے اس بات کا یقین ہو جائے کہ یہ منی ہے تو اس پر غسل واجب ہے چاہے اسے خواب یاد ہو یا نہ ہو۔

ب۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اسے اس بات کا یقین ہو جائے کہ یہ منی نہیں ہے تو اس پر غسل واجب نہیں ہے اور اسکا حکم پیشاب جیسا ہے۔

ج۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اسےاس بات میں شک ہو جائے کہ یہ منی ہے یا نہیں ہے؟ اس صورت میں اس پر لازم ہے کہ وہ سوچ و بچار کرے

اگر اسے اس کے منی ہونے پر کوئی دلیل مل گئی تو اسے منی شمار کیا جائے گا اور اس پر غسل لازم ہوگا اور اگر مذی ہونے پر کوئی دلیل مل گئی تو مذی شمار کیا جائے گا اور غسل واجب نہیں ہو گا اور اگر شک برقرار رہا تو احتیاطاً غسل کر لے۔

7۔ اگر کسی آدمی کو منی نظر آئی اور اسے یاد نہ تھا کہ کب اس کو احتلام ہوا ہے تو اس پر غسل واجب ہے اور آخری نیند کے بعد نمازیں بھی لوٹانا واجب ہیں۔

2۔ عورت کے ساتھ ہمبستری

جماع مرد کی شرمگاہ کا عورت کی شرمگاہ کے ساتھ ٹکرانے کو کہتے ہیں اور وہ ٹکرانا یہ ہے کہ آلہء تناسل کا حشفہ عورت کی شرمگاہ میں داخل ہو جائے اگرچہ انزال نہ ہو لیکن غسل واجب ہو جاتا ہے

کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں"جب مرد کا آلہء تناسل عورت کی شرمگاہ میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے"[ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے]

3۔ جب کافر مسلمان ہو جائے تب بھی غسل واجب ہوجاتا ہے۔

"کیونکہ قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا۔"[ اس حدیث کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

4۔ حیض اور نفاس کا خون رک جانے پر بھی غسل واجب ہوجاتا ہے۔

کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمای"جب آپ کو حیض کا خون آنے لگ جائے تو نماز چھوڑ دو اور جب خون رک جائے تو غسل کرو اور نماز پڑھنا شروع کر دو" [یہ حدیث متفق علیہ ہے]

اور تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نفاس بھی حیض جیسا ہے۔

5۔ موت واقع ہونے سے بھی غسل واجب ہو جاتا ہے

کیونکہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے غسل کے بارے میں جب وہ فوت ہو گئیں تو فرماتے ہیں "زینب کو تین یا پانچ مرتبہ یا اس سے زیادہ غسل دو اگر تمہیں اس کی ضرورت محسوس ہو"[ یہ حدیث متفق علیہ ہے]

غسل کرنے کا طریقہ

غسل میں واجب یہ ہے کہ پورے جسم کو غسل کی نیت کے ساتھ پانی کے ذریعے تر کیا جائے چاہے جس بھی طریقے سے ہو البتہ مستحب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرح غسل کیا جائے۔

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کے غسل کے طریقے کو بیان کرتی ہوئی فرماتی ہیں "کہ میں نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لیے پانی بھر کے آپ ﷺ کے پاس رکھ دیا تو آپ ﷺ نے سب سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دو دفعہ یا تین دفعہ دھویا، پھر اپنا دھلا ہوا ہاتھ آپ ﷺ نے پانی کے اس برتن میں ڈالا اور اس سے پانی لے کر استنجاء کیا ، پھر اپنا بایاں ہاتھ زمین پر مارا اور اس کو خوب زمین کی مٹی سے ملا اور ر گڑا، پھر وضو کیا جیسے کہ آپ ﷺ نمازکے لیے وضو فرمایا کرتے تھے، اس کے بعد تین دفعہ اپنے سر پر پانی لپ بھر بھر کے ڈالا، پھر اپنے سارے جسم کو دھویا پھر اس جگہ سے ہٹ کر آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے اور پھر میں نے آپ ﷺ کو رومال دیا تو آپ ﷺ نے اس کو واپس فرما دی"[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

- اس حدیث کی روشنی میں غسل کا طریقہ مندرجہ ذیل ہوا۔

1۔ سب سے پہلے غسل کرنے والا اپنی ہتھیلیوں کو دو یا تین مرتبہ دھوئے گا۔

2۔ پھر اپنی شرمگاہ کو دھوئے گا۔

3۔ پھر زمین پر یا دیوار پر دو یا تین دفعہ ہاتھ مارے گا۔

4۔ پھر ایسے وضو کرے گا جیسے نماز کے لیے کرتا ہے لیکن پاؤں نہیں دھوئے گا۔

5۔ پھر سر پر پانی بہائے گا۔

6۔ پھر سارے جسم کو دھوئے گا۔

7۔ اور آخر میں اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں دھوئے گا۔

فوائد

- جنابت اور حیض سے غسل کے وقت عورت کے لیے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں ہے بلکہ صرف سر پر پانی کا بہانا کافی ہے بشرطیکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔

- حیض اور نفاس سے غسل کے وقت عورت کے لیے یہ مستحب ہے کہ وہ تھوڑی سی روئی لے اور اس کو مسک یا عطر سے تر کر کے خون والی جگہ پر لگائے تاکہ خون کا اثر بالکل ختم ہو جائے۔

- اگر کسی نے جنابت سے غسل کیا تو وہ وضو کیے بغیر نماز پڑھ سکتا ہے اگرچہ اس نے غسل کے وقت وضو کی نیت نہ کی ہو۔

جو چیزیں جنبی کے لیے حرام ہیں۔

1۔ جنبی کے لیے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے "اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ، جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں جب تک غسل نہ کر لو"

2۔ جنبی کے لیے بیت اللہ کا طواف بھی حرام ہے۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں "بیت اللہ کا طواف نماز ہے"[ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے]

3۔ جنبی قرآن کریم کو نہیں چھو سکتا

کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "قرآن کریم کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں"

اور رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں "قرآن کریم کو نہیں چھو سکتا مگر پاک آدمی"[ اس حدیث کو امام مالک نے مؤطا میں روایت کیا ہے]

4۔ جنبی قرآن کریم کی تلاوت نہیں کر سکتا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء سے نکل کر ہم پر قرآن پڑھا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے یعنی کھانے میں شریک ہوتے تھے اور آپ ﷺ کو جنابت کے سوا کوئی بھی چیز قرآن کریم کی تلاوت سے نہیں روکتی تھی"[ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے]

5۔ جنبی کے لیے مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں ہے البتہ گزر سکتا ہے۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ، جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کر لو، ہاں اگر راہ چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے "

قرآن کریم کو چھونے کی تصویر
نماز کی تصویر
قرآن کریم کی تلاوت کیے جانے کی تصویر
مسجد میں ٹھہرنے کی تصویر
بیت اللہ کے طواف کی تصویر

مستحب غسل

1۔ جمعہ کے لیے غسل کرنا مستحب ہے۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں "جو شخص جمعہ کے دن (نماز جمعہ کے لیے) وضو کرے تو بھی کافی اور ٹھیک ہے اور جو غسل کرے تو غسل کرنا افضل ہے"[ اس حدیث کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

2۔ عمرہ اور حج کے لیے احرام سے پہلے غسل کرنا مستحب ہے۔

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ انہوں نے احرام باندھنے کے لیے کپڑے اتارے اور غسل کیا۔ "[اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے]

3۔ میت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنا مستحب ہے۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں "جس نے مردے کو غسل دیا تو اسے چاہیے کہ وہ غسل کرے"[ اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے]

4۔ ہر ہمبستری کے بعد غسل کرنا مستحب ہے۔

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن باری باری اپنی بیویوں کے پاس جا رہے تھے اور ہر ایک کے پاس غسل فرما رہے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ آپ ﷺ آخر میں ایک ہی دفعہ کیوں غسل نہیں فرمالیتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ پاکی اور طہارت کے زیادہ قریب ہے"[ اس حدیث کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

مناسب نہیں ہے

1۔ جنابت سے غسل کو اتنا مؤخر کرنا مناسب نہیں ہے کہ نماز کا وقت نکل جائے۔

2۔ عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو اس کے لیے فرض نماز ترک کرنا مناسب نہیں ہے۔ اگر وہ ظہر کا وقت نکلنے سے بمقدار ایک رکعت پہلے بھی حیض سے پاک ہو گئی تو اس پر واجب ہے کہ وہ غسل کرے اور ظہر کی نماز ادا کرے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں "کہ جس کسی نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پڑھ لی تو اس نے فجر کی نماز پا لی اور جس کسی نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو گویا اس نے عصر کی نماز پا لی"[ یہ حدیث متفق علیہ ہے]